Atlas ہیومینائڈ جو واقعی انسانوں کی جگہ لے لے گا

دنیا نے ہیومینائڈ روبوٹس پہلے بھی دیکھے ہیں، مگر لاس ویگاس میں CES کے اسٹیج پر پیش کیا جانے والا Atlas محض ایک نمائش نہیں بلکہ انسانی محنت کا متبادل بننے کی واضح کوشش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے عام ہیومینائڈ کے بجائے روبوٹکس میں ٹرننگ پوائنٹ قرار دے رہے ہیں۔
Hyundai کی ملکیت Boston Dynamics نے پہلی بار کھل کر بتایا ہے کہ Atlas کسی لیب یا اسٹیج کے لیے نہیں بلکہ حقیقی فیکٹری میں کام کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس روبوٹ کا کمرشل ورژن پہلے ہی تیاری کے مرحلے میں ہے اور 2028 میں ہیونڈائی کی الیکٹرک گاڑیوں کی فیکٹری میں تعینات کر دیا جائے گا۔
Atlas کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ اس کے لیے کہاں، کب اور کیا کام کرنا ہے — یہ سب واضح کر دیا گیا ہے۔ یہ روبوٹ گاڑیوں کی اسمبلی، بھاری اور بار بار دہرائے جانے والے صنعتی کام انجام دے گا، جو اب تک ہیومینائڈ روبوٹس کے لیے محض دعوے سمجھے جاتے تھے۔
اس انقلاب کو مزید طاقت مل رہی ہے Google DeepMind کی شمولیت سے، جو Atlas کو جدید مصنوعی ذہانت فراہم کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ Atlas صرف حرکت نہیں کرے گا بلکہ ماحول کو سمجھ کر فیصلے بھی کر سکے گا، جو روایتی روبوٹس میں ممکن نہیں تھا۔
ماہرین کے مطابق Atlas کی پیشکش دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ہیومینائڈ روبوٹس اب تفریح یا تجربہ نہیں رہے بلکہ صنعتوں میں انسانی ورک فورس کا عملی متبادل بننے جا رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو Atlas کو ماضی کے تمام ہیومینائڈز سے الگ اور خطرناک حد تک مؤثر بناتا ہے۔



