2026: چاند پر واپسی، یورپ پر گرہن، اور آسمان میں رقص کرتی روشنیاں

Moon missions return

نہال ممتاز

2026 انسان اور خلا کے تعلق میں ایک غیر معمولی سال ثابت ہونے جا رہا ہے، 4دہائیوں بعد چاند پر واپسی کی تیاری، یورپ میں دن کو رات میں بدل دینے والا مکمل سورج گرہن، اور آسمان میں پھیلتی شمالی روشنیوں کا سلسلہ — آنے والا سال نہ صرف سائنس دانوں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی حیرت، تجسس اور مسحور کن مناظر سے بھرپور ہوگا۔

گزشتہ نصف صدی میں چاند خاموشی سے زمین کے گرد گردش کرتا رہا، مگر اب وہ ایک بار پھر عالمی خلائی ایجنسیوں اور نجی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ NASA اپریل 2026 میں چار خلا بازوں — تین امریکی اور ایک کینیڈین — کو ایک دس روزہ مشن پر روانہ کرے گی، جو چاند کے قریب سے گزر کر اس کے پچھلے حصے کے گرد چکر لگائیں گے۔ اگرچہ یہ مشن لینڈنگ پر مشتمل نہیں ہوگا، مگر اس دوران ایسے علاقوں کی جھلک ملے گی جنہیں اپالو مشنز بھی براہِ راست نہیں دیکھ سکے تھے۔ یہ معلومات مستقبل میں چاند پر انسانی قدم رکھنے کی راہ ہموار کریں گی۔

یہ مشن Artemis پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد صرف علامتی واپسی نہیں بلکہ چاند پر طویل المدت انسانی موجودگی کی بنیاد رکھنا ہے۔ یوں 2026 میں انسان چالیس سے زائد برس بعد ایک بار پھر چاند کی دہلیز پر کھڑا ہوگا۔

چاند کی دوڑ میں امریکا اکیلا نہیں۔ چین بھی اپنے Chang’e-7 مشن کے ذریعے چاند کے جنوبی قطب کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں مستقل سائے میں چھپے گڑھوں میں برفانی پانی کے ذخائر موجود ہونے کا امکان ہے۔ اگر یہ برف دریافت ہو گئی تو یہ خلائی تحقیق میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پانی سے نہ صرف پینے کا بندوبست ہو سکتا ہے بلکہ آکسیجن اور راکٹ ایندھن بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں چاند مریخ اور اس سے آگے کے سفر کے لیے ایک مستقل پڑاؤ بن سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چاند کی جانب صرف سرکاری ادارے ہی نہیں بڑھ رہے، بلکہ نجی خلائی کمپنیاں بھی اس میدان میں کود پڑی ہیں۔ بلیو اوریجن، جس کی بنیاد جیف بیزوس نے رکھی، 2026 میں اپنے دیو ہیکل Blue Moon لینڈر کا تجربہ کرنے جا رہی ہے۔ یہ لینڈر سائز میں اپالو دور کے لینڈرز سے تقریباً دوگنا بڑا ہوگا اور مستقبل میں خلا بازوں کو چاند کی سطح تک لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی امریکی کمپنیاں چاند پر تجارتی بنیادوں پر سامان پہنچانے کی تیاری کر رہی ہیں، جو خلا میں ایک نئی معیشت کے آغاز کی علامت ہے۔

زمین پر موجود افراد کے لیے بھی 2026 کا آسمان کم دلچسپ نہیں ہوگا۔ فروری میں انٹارکٹیکا کے اوپر ایک نایاب حلقہ نما سورج گرہن (Ring of Fire) دیکھا جا سکے گا، جس کے جزوی مناظر جنوبی افریقہ، چلی اور ارجنٹائن تک نظر آئیں گے۔ تاہم اصل منظر اگست میں دیکھنے کو ملے گا، جب ایک مکمل سورج گرہن آرکٹک سے ہوتا ہوا گرین لینڈ، آئس لینڈ اور بالآخر اسپین تک پہنچے گا۔ اس مختصر لمحے میں یورپ کے کچھ حصوں میں دن اچانک رات میں بدل جائے گا — ایک ایسا منظر جو نسلوں میں شاید ایک بار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

چاند خود بھی 2026 میں اپنی پوری آب و تاب دکھائے گا۔ سال کے دوران تین سپر مونز متوقع ہیں، جب چاند زمین کے سب سے قریب ہوگا۔ جنوری کا سپر مون ایک شہابی بارش کے ساتھ نمودار ہوگا، جبکہ کرسمس ایو پر آنے والا آخری سپر مون سال کا سب سے بڑا اور روشن چاند ہوگا۔

آسمان کی ایک اور دلکش کہانی شمالی روشنیوں کی ہے۔ سورج کی سرگرمیاں اگرچہ اپنے عروج سے آہستہ آہستہ نیچے آ رہی ہیں، مگر 2026 میں بھی شمسی طوفان زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر شاندار Aurora Borealis اور Aurora Australis پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قطبی علاقوں سے دور رہنے والے لوگ بھی کبھی کبھار ان جادوئی روشنیوں کا مشاہدہ کر سکیں گے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2026 صرف خلا بازوں اور سائنس دانوں کا سال نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا سال ہے جو آسمان کی طرف دیکھ کر سوال پوچھتا ہے۔ چاند پر واپسی، یورپ میں گرہن، اور آسمان میں رقص کرتی روشنیاں — یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ انسان ایک بار پھر خلا کو اپنی کہانی کا مرکزی کردار بنانے جا رہا ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button