میجرسرجری ضعیف افراد میں عام بیماریوں کو خطرناک بنا سکتی ہے — نئی تحقیق

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی سرجری کے بعد بزرگ افراد میں عام عمر رسیدہ مسائل — جیسے ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی)، ڈیلیریم (ذہنی انتشار)، غذائی کمی، گرنا یا بیت الخلا کے کنٹرول کا ختم ہونا — اگر پیدا ہوں تو یہ معمولی نہیں بلکہ جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق Journal of the American College of Surgeons میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق ایسے مریض جو سرجری کے بعد ان مسائل کا شکار ہوتے ہیں، ان میں:

  • ایک سال کے اندر موت کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے
  • اور اگر دو یا زیادہ مسائل پیدا ہو جائیں تو یہ خطرہ تین گنا تک بڑھ جاتا ہے

🧪 تحقیق کے اہم نتائج

تحقیق میں 2016 سے 2021 کے دوران 66 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 7 لاکھ 80 ہزار سے زائد مریضوں کا ریکارڈ شامل کیا گیا جو بڑی سرجری سے گزرے تھے۔ ان سرجریوں میں شامل تھیں:

  • دل کی بائی پاس سرجری
  • پھیپھڑا نکالنے کی سرجری
  • پیٹ کی شریان کا اینیورزم
  • آنت یا لبلبے کا حصہ نکالنا

نتائج کے مطابق:

  • 11% مریضوں میں سرجری کے بعد نئی عمر رسیدہ علامات پیدا ہوئیں۔
  • ان میں:
    • ڈی ہائیڈریشن سب سے عام (67%)
    • ڈیلیریم (25%)
    • غذائی کمی (13%)

ایسے مریض اوسطاً:

  • گھر واپس جانے کے بجائے زیادہ دیر اسپتال یا نرسنگ ہوم میں رہتے ہیں
  • اور سرجری کے بعد پہلے 3 ماہ میں 16 دن کم اپنے گھر پر رہ پاتے ہیں

👴 ڈاکٹرز کی وارننگ: "ان علامات کو عمر کا اثر سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے”

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ٹموتھی پاولک کا کہنا ہے:

“یہ مسائل صرف بڑھاپے کے عام اثرات نہیں — یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہیں کہ مریض کو فوری اور خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے کہا کہ سرجری کے بعد بزرگ مریضوں کی نگرانی، خوراک، ذہنی حالت اور جسمانی توازن پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔


🩺 کس میں خطرہ زیادہ ہے؟

تحقیق کے مطابق مندرجہ عوامل والے مریض زیادہ خطرے میں ہیں:

✔ بڑھاپا
✔ پہلے سے طبی بیماریاں
✔ ایمرجنسی سرجری
✔ جسمانی کمزوری

اس کے برعکس:

🔹 کم سے کم چیرا لگانے والی سرجری (Minimally invasive surgery) میں ان مسائل کا خطرہ تقریباً 49% کم پایا گیا۔


🔍 نتیجہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرجری کروانے والے بزرگ مریضوں کے لیے:

  • قبل از سرجری تشخیص
  • بعد از سنبھال
  • اور خصوصی غذائی و جسمانی بحالی پروگرام

موت کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں اور مریضوں کو جلد گھروں اور معمول کی زندگی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button