پومپیئی کے حماموں کا گندا راز، نئی تحقیق نے پردہ اٹھا دیا

پومپیئی:
قدیم رومی شہر پومپیئی میں نہانے کے طور طریقوں سے متعلق ایک نئی تحقیق نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 79 عیسوی میں آتش فشاں ماؤنٹ ویسویئس کے لاوے تلے دبے معدنی ذخائر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر کے عوامی حماموں میں استعمال ہونے والا پانی اکثر صاف نہیں ہوتا تھا اور باقاعدگی سے تبدیل بھی نہیں کیا جاتا تھا۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف مائنز کے سائنس دانوں کی تحقیق میں کیلشیم کاربونیٹ کے ایسے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جو پانی میں انسانی آلودگی کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ پومپیئی کا آبی نظام رومیوں سے پہلے یونانیوں اور سامنائٹس کے زیرِ اثر تھا۔

تحقیق کے مطابق ابتدائی دور میں حماموں کو پانی پہنچانے کے لیے دستی مشینیں استعمال کی جاتی تھیں، جن کے باعث پانی کا معیار کمزور رہتا تھا۔ بعد ازاں رومی دور میں آبی گزرگاہوں (ایکواڈکٹ) کی تعمیر سے اجتماعی نہانے کے نظام میں بہتری آئی، تاہم پومپیئی شہر رومی سلطنت کے عروج سے پہلے ہی تباہ ہو گیا۔

ماہرین کے مطابق شہر کے کئی بڑے حمام زیرِ تعمیر تھے مگر آتش فشاں پھٹنے کے باعث کبھی استعمال میں نہ آ سکے۔ لاوے نے جہاں پومپیئی کو تباہ کیا، وہیں اس نے شہر کے آبی نظام کو صدیوں تک محفوظ بھی کر دیا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button