بیجنگ کا سکیورٹی الرٹ: امریکی و اسرائیلی سافٹ ویئرز پر پابندی

بیجنگ:
چین نے ملکی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں کے تیار کردہ سائبر سکیورٹی سافٹ ویئرز کا استعمال بند کر دیں۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی کے خدشات اور مغرب کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
اس پابندی کے تحت امریکی کمپنیوں وی ایم ویئر، پالو آلٹو نیٹ ورکس، فورٹینیٹ اور اسرائیلی کمپنی چیک پوائنٹ کی مصنوعات شامل ہیں۔ چینی حکام کے مطابق ان سافٹ ویئرز کے ذریعے حساس ڈیٹا کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کا خدشہ موجود ہے، جو ریاستی اور ادارہ جاتی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کی برتری کے لیے مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے، خصوصاً نیم موصل چپس، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں۔ چین اس سے قبل بھی مغربی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور مقامی متبادل اپنانے کی پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام محض تکنیکی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ ڈیجیٹل سلامتی اب عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا اہم میدان بن چکی ہے اور چین اس شعبے میں اپنی خودمختاری مضبوط کرنا چاہتا ہے۔



