کراچی لاجسٹکس میں انقلاب، کے پی ٹی تا پِپری ریلوے فریٹ لائن بحال

کراچی: کراچی کی بندرگاہی اور لاجسٹکس صلاحیت میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے کے پی ٹی سے مارشلنگ یارڈ پِپری تک ریلوے فریٹ لائن کی بحالی کے اہم منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور جدید ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک پِپری کا حصہ ہے، جسے ملکی تجارت کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر ریلوے Hanif Abbasi اور DP World کے چیئرمین و سی ای او Sultan Ahmed bin Sulayem نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن، ڈی پی ورلڈ اور بندرگاہوں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
منصوبے کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ سے پِپری تک 52 کلومیٹر طویل ڈیڈیکیٹڈ فریٹ ریلوے لائن کو چار ماہ کے اندر بحال کیا جائے گا۔ پِپری میں قائم ہونے والا جدید ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک ریل، سڑک اور بندرگاہی سہولیات کو ایک ہی مرکز میں یکجا کرے گا، جس سے کراچی کی بندرگاہوں پر دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے ترسیل کی لاگت اور وقت کم ہوگا جبکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔ آئندہ کراچی بندرگاہ پر آنے والے درآمدی کنٹینرز کو براہِ راست ریل کے ذریعے پِپری منتقل کیا جائے گا، جس سے شہر میں ٹریفک اور لاجسٹک مسائل کم ہوں گے۔
یہ راہداری منصوبہ پاکستان کی درآمدات و برآمدات کو چین، وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی ممالک تک سستی، تیز اور مؤثر ترسیل میں مدد دے گا۔ ماہرین کے مطابق سپلائی چین میں بہتری کے باعث یہ منصوبہ علاقائی اور عالمی تجارت میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور ملکی لاجسٹکس و ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔



