وینزویلا نہیں، اب براہِ راست امریکا سے ڈیل — ٹرمپ کا تیل و گیس ایگزیکٹوز کو بڑا پیغام

واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے وائٹ ہاؤس میں عالمی تیل اور گیس کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران واضح پیغام دیا ہے کہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کے معاملے پر اب کمپنیوں کا براہِ راست واسطہ امریکا سے ہوگا، نہ کہ وینزویلا کی حکومت سے۔ ٹرمپ نے ایگزیکٹوز کو مکمل سکیورٹی اور تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ “بالکل مختلف وینزویلا” ہے اور امریکا وہاں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دہائیوں قبل امریکا نے وینزویلا کی تیل کی صنعت کو اپنی مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے کھڑا کیا تھا، مگر بعد ازاں یہ اثاثے “چرا لیے گئے” اور سابقہ قیادت نے اس پر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکا ان اثاثوں کے معاملے پر “سب کچھ” کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں ضروری صلاحیت اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کم از کم 100 ارب ڈالر خرچ کر رہی ہیں، جو سرکاری نہیں بلکہ نجی سرمایہ ہے۔

ملاقات کے موقع پر امریکی نائب صدر JD Vance، وزیر خارجہ Marco Rubio اور انتظامیہ کے دیگر سینئر ارکان بھی موجود تھے۔ نائب صدر وینس نے وینزویلا میں حالیہ امریکی آپریشن کو امریکا کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک مزید امیر، طاقتور اور محفوظ ہوگا، جبکہ امریکا میں منشیات سے ہونے والی اموات میں بھی کمی آئے گی۔

ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا جانے والی کمپنیوں کو مکمل حفاظتی ضمانتیں دی جائیں گی۔ وینزویلا کی عبوری قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکام امریکا کے اتحادی دکھائی دیتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا وینزویلا میں روس اور چین کی موجودگی نہیں چاہتا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے حال ہی میں وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے سابق صدر Nicolás Maduro اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں پر نیویارک میں منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات سے متعلق دہشت گردی کی سازشوں کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر سے فائدہ اٹھانے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، جس کے عالمی توانائی منڈی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button