وہیں وار کریں گے جہاں سب سے زیادہ درد ہوگا، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو نشانہ بنایا تو امریکہ مداخلت کرے گا اور ایران پر ایسی جگہ حملہ کیا جائے گا جہاں اسے سب سے زیادہ تکلیف ہو۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس کا مطلب زمینی فوج بھیجنا نہیں بلکہ ایسے اقدامات ہوں گے جو ایران کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت “بڑی مصیبت” میں ہے اور بعض شہروں میں عوام نے ایسی پیش رفت کر لی ہے جس کا کچھ عرصہ قبل تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ ٹرمپ کے مطابق اگر ایرانی حکام نے ماضی کی طرح طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تو امریکہ خاموش نہیں رہے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران میں مظاہرین محفوظ رہیں کیونکہ حالات نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “گولی چلانا شروع نہ کریں، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ہم بھی جواب دیں گے۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے اور ایرانی حکومت اپنے عوام کے ساتھ برے سلوک کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

دوسری جانب پالیسی ریسرچ ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار کے مطابق سات جنوری کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کی شدت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ اب تہران سمیت شمال مغربی ایران کے بڑے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے کم از کم ایک صوبے میں Islamic Revolutionary Guard Corps کو بھی تعینات کر دیا ہے۔

اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei نے مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ سرکاری ٹی وی پر خطاب میں خامنہ ای نے مظاہرین کو “شرپسند” اور “غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔ انہوں نے امریکی صدر پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ غرور اور تکبر کی انتہا پر پہنچنے والے حکمرانوں کو بالآخر اقتدار سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی یہ سخت بیان بازی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ ایران میں جاری احتجاج اور عالمی ردعمل نے صورتحال کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button