سعودی عرب کا اے آئی بریک تھرو،پہلی مرتبہ نیا وینچر فنڈ لانچ

ریاض: سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار اے آئی وینچر فنڈ لانچ کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے Red Sea Global نے Bunat Ventures کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے، جس کا مقصد مملکت میں اے آئی اسٹارٹ اپس کو فروغ دینا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری ادارے تیار کرنا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ نیا فنڈ ابتدائی اور ترقی کے مراحل میں موجود اُن کمپنیوں کو ہدف بنائے گا جو یا تو مکمل طور پر اے آئی پر مبنی ہوں یا جن کے کاروبار میں مصنوعی ذہانت مرکزی کردار ادا کرتی ہو۔ آئندہ تین برسوں میں تقریباً 25 اسٹارٹ اپس کو معاونت فراہم کی جائے گی، جہاں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ عملی سہولیات بھی دی جائیں گی۔
اس فنڈ کے تحت منتخب سعودی کمپنیوں کو ریڈ سی گلوبل کے وسیع آپریشنز میں حقیقی ماحول میں اپنی ٹیکنالوجی آزمانے کا موقع ملے گا، جن میں لگژری ریزورٹس اور ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی شامل ہے۔ ریڈ سی گلوبل کے گروپ ہیڈ ٹیکنالوجی اینڈ کارپوریٹ ایکسیلنس سلطان مرشد نے کہا کہ اختراع ایک پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے اور یہ شراکت داری سعودی عرب کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرے گی۔
بونات وینچرز کے سی ای او خالد زین العابدین کا کہنا تھا کہ یہ تعاون وژنری ڈیولپمنٹ اور جدید وینچر کیپیٹل کو یکجا کرتا ہے، جس سے سعودی اے آئی ماہرین کی نئی نسل ابھرے گی جو نہ صرف صنعتوں کو بدلیں گے بلکہ عالمی سطح پر سعودی عرب کی قیادت کو بھی مضبوط کریں گے۔
یہ اقدام سعودی عرب کے اختراعی نظام کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنے اور مملکت کو عالمی اے آئی منظرنامے میں نمایاں مقام دلانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریڈ سی گلوبل اپنے فلیگ شپ سیاحتی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے اور شُرا آئی لینڈ پر نئے ریزورٹس کے افتتاح کی تیاری جاری ہے۔



