مُنرو نظریہ کی واپسی؟ ٹرمپ، وینزویلا اور ہلتی ہوئی برکس

خام حرف از نہال ممتاز

تاریخ کبھی کبھی خاموشی سے نہیں آتی، وہ شور کے ساتھ لوٹتی ہے۔ امریکا کی حالیہ حرکات کو دیکھ کر کچھ ایسا

ہی محسوس ہو رہا ہے کہ دو سو سال پرانا مُنرو نظریہ ایک بار پھر فائلوں سے نکل کر عالمی سیاست کے میدان میں اتر آیا ہے۔ وینزویلا میں 3 جنوری 2026 کی کارروائی محض ایک ملک تک محدود واقعہ نہیں رہی، بلکہ اس نے دنیا بھر میں طاقت کے توازن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے

مُنرو نظریہ سادہ الفاظ میں امریکا کا یہ اعلان تھا کہ مغربی نصف کرے (امریکاز) میں کسی بیرونی طاقت کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے بدلے امریکا یورپ کے معاملات سے دور رہے گا۔ 1823 میں یہ اعلان نوآبادیاتی یورپ کے لیے ایک وارننگ تھا، مگر 2026 میں اس کا مطلب کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک دکھائی دے رہا ہے۔

ٹرمپ پہلے ہی اس نظریے کو “دوبارہ زندہ کرنے” کی بات کر چکے ہیں۔ وینزویلا کے بعد اب جن ممالک کے نام گردش میں ہیں، وہ محض اتفاق نہیں: میکسیکو، گرین لینڈ، کیوبا، کولمبیا اور ایران۔ اگر ان ناموں کو نقشے پر رکھ کر دیکھا جائے تو تصویر واضح ہو جاتی ہے — شمالی امریکا، جنوبی امریکا، آرکٹک اور مشرقِ وسطیٰ… یعنی وہ تمام خطے جہاں امریکا کی اسٹریٹجک گرفت برکس ممالک کے مفادات سے ٹکراتی ہے۔

یہاں اصل سوال برکس کا ہے۔ برکس کوئی فوجی اتحاد نہیں، مگر یہ ایک ابھرتا ہوا معاشی و سیاسی بلاک ضرور ہے، جو مغربی بالادستی کے مقابل ایک متبادل بیانیہ پیش کرتا ہے۔ وینزویلا چین اور روس کا قریبی اتحادی رہا، مگر روس یوکرین کی جنگ میں الجھا ہے اور چین جغرافیائی طور پر دور۔ ایسے میں امریکا کا وینزویلا تک پہنچ جانا برازیل کی سرحد تک اثر و رسوخ بڑھانے کے مترادف ہے۔

گرین لینڈ کا معاملہ بھی کم اہم نہیں۔ اگر امریکا وہاں اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے تو آرکٹک میں چین اور روس کی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برکس کے بڑے ممالک اس پیش رفت کو محض علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن پر حملہ سمجھ رہے ہیں۔

ایران اس پوری کہانی کا سب سے حساس نکتہ ہے۔ اگر امریکا وہاں کسی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ پیش قدمی کرتا ہے تو یہ صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں، بلکہ برکس کے اندرونی اتحاد کے لیے بھی بڑا امتحان ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چین اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہہ رہا ہے، روس اسے جارحیت قرار دے رہا ہے اور برازیل اسے لاطینی امریکا کی تاریخ کی بدترین مداخلتوں میں شمار کر رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کا ردعمل نسبتاً محتاط ہے۔ تشویش کا اظہار تو کیا گیا، مگر سخت الفاظ سے گریز بھی واضح پیغام دیتا ہے کہ نئی عالمی صف بندی میں ہر ملک کھل کر کسی ایک طرف کھڑا ہونے سے پہلے سوچ رہا ہے۔

اصل خطرہ یہ نہیں کہ امریکا پانچ ممالک پر “قبضہ” کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر مُنرو نظریہ جدید شکل میں نافذ ہوا تو دنیا دوبارہ دائرہ ہائے اثر (spheres of influence) کی سیاست میں داخل ہو جائے گی۔ ایک ایسی دنیا جہاں طاقت قانون سے زیادہ بولتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا برکس اس دباؤ کو برداشت کر پائے گا؟ یا یہ اتحاد بھی صرف بیانات اور مذمتی قراردادوں تک محدود رہ جائے گا؟

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نظریات کبھی مرتے نہیں، وہ حالات بدلتے ہی واپس آ جاتے ہیں۔ مُنرو نظریہ شاید کبھی گیا ہی نہیں تھا — بس خاموش تھا۔ اب اگر وہ بول رہا ہے تو دنیا کو سننا ہوگا… اور شاید جواب بھی دینا ہوگا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button