ہر رات میرا گلا دبایا جاتا تھا” — ڈریم گرل کا ڈراؤنا ماضی سامنے آ گیا

بھارتی فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ ہیما مالنی نے اپنے ابتدائی کیریئر کے دنوں کا ایک چونکا دینے والا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک عرصے تک ایسے گھر میں رہیں جسے لوگ “بھوتیا” سمجھتے تھے، جہاں انہیں ہر رات شدید گھبراہٹ اور گھٹن محسوس ہوتی تھی۔

ہیما مالنی کے مطابق انہیں بارہا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی رات کے وقت ان کا گلا دبانے کی کوشش کر رہا ہو، جس کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو جاتا تھا۔ یہ کیفیت ایک دو بار نہیں بلکہ مسلسل کئی راتوں تک دہرائی گئی، جس پر وہ شدید پریشان رہیں۔

اپنی سوانحی کتاب ہیما مالنی: بیونڈ دی ڈریم گرل میں وہ لکھتی ہیں کہ ابتدا میں وہ ممبئی (تب بمبئی) کے اپارٹمنٹس میں رہنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر انہیں ہمیشہ درختوں اور کھلی فضا سے گھرا بنگلہ زیادہ پسند تھا، جیسا کہ دہلی اور چنئی میں ان کے گھروں کا ماحول رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر ان کے والد نے جنوبی ممبئی کے علاقے والکیشور میں سمندر کے سامنے ایک وسیع اپارٹمنٹ خریدا، مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور جُہو میں بنگلہ تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

ہیما مالنی نے یہ بھی یاد کیا کہ فلم سپنوں کا سوداگر کی شوٹنگ کے دوران وہ باندرہ کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی تھیں، جس کے بعد انہیں ایک بنگلہ ملا—لیکن وہی بنگلہ بعد میں “بھوتیا” قرار دیا جانے لگا۔
ان کے بقول، “ہر رات گھٹن کا احساس ہوتا، میں بے چین رہتی۔ اگر یہ ایک دو بار ہوتا تو نظر انداز کیا جا سکتا تھا، مگر یہ ہر رات ہوتا تھا۔”

بعد ازاں انہوں نے ممبئی میں اپنا پہلا اپارٹمنٹ خریدا۔ اسی دوران دھرمیندر ان سے ملاقات کے لیے آتے تھے، تاہم اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہی ملاقاتیں محبت میں بدل جائیں گی۔ ہیما مالنی نے 1972 میں، فلم سیتا اور گیتا کی شوٹنگ کے دوران، جُوہو میں اپنا پہلا بنگلہ خریدا—ایک ایسا گھر جسے وہ آج بھی پسند کرتی ہیں کیونکہ وہ درختوں سے گھرا ہوا تھا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button