بھارت میں ٹی 20ورلڈ کپ؟ بنگلہ دیش اور آئی سی سی آمنے سامنے

ڈھاکا/نئی دہلی: بنگلہ دیش نے بھارت میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں اپنی ٹیم کی شرکت سے متعلق سکیورٹی خدشات کے حل کے لیے عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ قریبی تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایسے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ آئی سی سی نے بھارت نہ جانے کی صورت میں کوئی الٹی میٹم جاری کیا ہے۔
بی سی بی کے مطابق آئی سی سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بنگلہ دیش کے تحفظات کو سکیورٹی پلاننگ میں سنجیدگی سے شامل کیا جائے گا اور دونوں فریق پیشہ ورانہ اور تعمیری انداز میں مسئلے کا قابلِ قبول حل نکالنے کے لیے رابطے میں رہیں گے۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ اس کی مردوں کی ٹیم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔ بعد ازاں آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان ورچوئل اجلاس بھی ہوا، جس میں بنگلہ دیش نے اپنے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی۔
بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر فروری میں شروع ہونے والے 20 ٹیموں کے ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہے ہیں، تاہم بنگلہ دیش کے تمام گروپ میچز بھارت میں رکھے گئے تھے۔
تنازع کی جڑ ایک حالیہ واقعہ بتایا جا رہا ہے، جب بنگلہ دیش کے اسٹار فاسٹ بولر مصطفیٰ الرحمٰن کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر ریلیز کر دیا، جس پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد بی سی بی نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت جانے سے انکار کیا۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو بھارت جانے یا پوائنٹس سے محرومی کے خطرے سے آگاہ کیا ہے، تاہم بی سی بی نے ان خبروں کو “بے بنیاد اور مکمل طور پر غلط” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی الٹی میٹم نہیں دیا گیا۔
ادھر بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھی احتجاجاً آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی نے کرکٹ تعلقات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ آئی سی سی اور بنگلہ دیش کے درمیان رابطے بحال ہو چکے ہیں، تاہم بھارت میں میچز کے انعقاد پر سکیورٹی خدشات خطے میں کھیل اور سیاست کے باہمی تصادم کی ایک اور مثال بن چکے ہیں۔



