غزہ میں میڈیا لاک ڈاؤن کیخلاف عالمی پریس تنظیم اسرائیل کے خلاف عدالتی کارروائی کو تیار
غزہ تک آزاد میڈیا رسائی پر اسرائیل کی مسلسل پابندی کے خلاف عالمی صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ ایک بین الاقوامی میڈیا تنظیم نے اسرائیلی حکومت کے فیصلے کو صحافتی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں سخت جواب جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔
Foreign Press Association (ایف پی اے) نے اپنے بیان میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی برقرار رکھنے پر “گہری مایوسی” کا اظہار کیا۔ تنظیم کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی، حالانکہ علاقے میں جنگ بندی نافذ ہے۔
ایف پی اے، جو اسرائیل، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والے بین الاقوامی صحافیوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے واضح کیا ہے کہ وہ عدالت میں اسرائیلی مؤقف کے خلاف ایک مضبوط اور جامع جواب جمع کرائے گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آزاد میڈیا رسائی کے لیے کوئی عملی منصوبہ پیش کرنے کے بجائے صحافیوں کو علاقے سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی کے باوجود میڈیا پر پابندیاں برقرار رکھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ کے زمینی حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایف پی اے کے مطابق صحافیوں کو اپنے فلسطینی ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہ دینا بین الاقوامی صحافتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غیر ملکی صحافیوں کے آزادانہ داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ صرف چند صحافیوں کو فوج کے ساتھ منسلک ہو کر رپورٹنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ دفاعی اداروں کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور میڈیا کی آزادانہ موجودگی بعض سکیورٹی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ایف پی اے نے غزہ تک میڈیا رسائی کے لیے اپنی درخواست ستمبر 2024 میں دائر کی تھی، جس پر عدالت کی جانب سے حکومت کو متعدد بار مہلت دی جا چکی ہے، تاہم تاحال کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آ سکا۔
ادھر عالمی صحافتی اداروں کے مطابق فلسطین گزشتہ برس صحافیوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک خطہ رہا۔ رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں تقریباً 300 صحافی اور میڈیا کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جس پر صحافتی تنظیمیں شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ غزہ پر میڈیا لاک ڈاؤن نہ صرف آزادیٔ صحافت کو محدود کرتا ہے بلکہ انسانی بحران کی آزاد اور غیر جانبدار رپورٹنگ کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔



