اسرائیلی فوج پرانے ٹینکس دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور

دو سال تک غزہ اور دیگر محاذوں پر جاری جنگ کے بعد اسرائیلی فوج شدید عسکری بحران کا شکار ہو چکی ہے، جہاں اسے ہتھیاروں اور افرادی قوت دونوں کی خطرناک کمی کا سامنا ہے۔ عبرانی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ مسلسل لڑائی کے باعث اسرائیلی فوج کے ٹینک یونٹس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پرانے ٹینکوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر فوجی سروس میں شامل کیا جا رہا ہے۔

عبرانی زبان کے معروف روزنامے یدیعوت آحارانوت** کے مطابق غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے بڑی تعداد میں ٹینک یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا اس حد تک ناکارہ ہو گئے ہیں کہ انہیں اب تک میدانِ جنگ کے قابل نہیں بنایا جا سکا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹینکوں کے اس بڑے نقصان نے اسرائیلی فوج کی آپریشنل صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اسی بحران کے باعث تل ابیب نے پرانے ٹینک فروخت کرنے کا اپنا منصوبہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ یہ ٹینک ماضی میں بلقان اور لاطینی امریکا کے بعض ممالک کو فروخت کیے جانے تھے، تاہم اب اسرائیلی فوج کو خود ان کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے، جس پر انہیں دوبارہ فوجی استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو صرف عسکری سازوسامان ہی نہیں بلکہ افرادی قوت کے محاذ پر بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ فوج میں انسانی وسائل کی کمی نے نہ صرف موجودہ آپریشنز بلکہ مستقبل کی جنگی تیاریوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹینکوں اور افرادی قوت کی قلت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ غزہ جنگ نے اسرائیلی فوج کی جنگی صلاحیتوں کو اندازوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اور اس کے اثرات آنے والے عرصے میں بھی اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button