اثاثے ظاہر کریں یا نااہلی کا سامنا کریں: الیکشن کمیشن کا 446 ارکانِ اسمبلی کو الٹی میٹم

اسلام آباد:
Election Commission of Pakistan نے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سالانہ اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات 15 جنوری تک جمع نہ کرائیں گئیں تو ان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 446 ارکانِ اسمبلی 31 دسمبر کی قانونی ڈیڈ لائن تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے میں ناکام رہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈیفالٹ کرنے والوں میں قومی اسمبلی کے 125 ارکان، 26 سینیٹرز، پنجاب اسمبلی کے 159، سندھ اسمبلی کے 62، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 48 اور بلوچستان اسمبلی کے 26 ارکان شامل ہیں۔
کمیشن نے واضح کیا کہ اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانا ایک لازمی قانونی تقاضا ہے، جس کے تحت ارکانِ اسمبلی کو اپنے، اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کے اثاثے بھی ظاہر کرنا ہوتے ہیں۔ یہ شق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت نافذ ہے، جس کے مطابق ہر سال 31 دسمبر تک گزشتہ مالی سال (30 جون تک) کے اثاثے ظاہر کرنا ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ تمام نادہندہ ارکان دفتری اوقات میں 15 جنوری تک اپنے گوشوارے جمع کرائیں، بصورت دیگر 16 جنوری کو سیکشن 137(3) کے تحت ان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی اور وہ اسمبلی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
کمیشن نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس بھی 139 ارکانِ اسمبلی کو اثاثے ظاہر نہ کرنے پر معطل کیا گیا تھا، جن میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان شامل تھے۔
الیکشن کمیشن نے زور دیا کہ اثاثہ جات کی بروقت اور درست تفصیلات کی فراہمی شفافیت اور جمہوری احتساب کے لیے ناگزیر ہے، اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔



