ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر کی حیثیت سے حلف بردار

نیویارک:ڈیموکریٹ رہنما Zohran Mamdani نے نیویارک سٹی کے میئر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، جس کے ساتھ وہ شہر کے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی نژاد اور کئی دہائیوں میں سب سے کم عمر میئر بن گئے ہیں۔ 34 سالہ ممدانی نے مین ہیٹن کے ایک تاریخی مگر غیر فعال سب وے اسٹیشن میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا۔

حلف برداری کی نجی تقریب نئے سال کے آغاز پر نصف شب کو منعقد ہوئی، جس کی نگرانی نیویارک اسٹیٹ کی اٹارنی جنرل Letitia James نے کی۔ مختصر خطاب میں ممدانی نے کہا کہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی قیادت کرنا ان کے لیے “زندگی کا سب سے بڑا اعزاز” ہے۔

ظہران ممدانی آئندہ چند دنوں میں سٹی ہال میں عوامی تقریب کے دوران دوبارہ حلف اٹھائیں گے، جہاں امریکی سینیٹر Bernie Sanders ان سے حلف لیں گے۔ اس موقع پر شہر میں عوامی تقریب کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

نومبر کے انتخابات میں ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مہنگائی، کرایوں میں اضافے اور روزمرہ اخراجات کو مرکزی مسئلہ بنایا اور مفت بس سروس، بچوں کی نگہداشت، کرایوں پر فریز اور شہری سطح پر گروسری اسٹورز جیسے اقدامات کا وعدہ کیا۔

ممدانی ایک ایسے وقت میں عہدہ سنبھال رہے ہیں جب نیویارک شہر کووِڈ کے بعد بحالی کے مرحلے میں ہے، جرائم کی شرح کم ہوئی ہے اور سیاحت بحال ہو چکی ہے، تاہم مہنگائی اور رہائشی اخراجات بدستور بڑا چیلنج ہیں۔ انہیں ریپبلکن صدر Donald Trump کے ساتھ بھی کام کرنا ہو گا، جن سے پالیسی اختلافات کے باوجود حالیہ مہینوں میں ایک ملاقات ہو چکی ہے۔

ممدانی کے بعض سیاسی مؤقف، خصوصاً اسرائیل سے متعلق تنقیدی آراء اور فلسطینی حامی بیانات، نیویارک کی یہودی برادری کے کچھ حلقوں میں تشویش کا باعث بنے ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں سماجی انصاف اور سیاسی تنوع کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button