لندن میں نیا سال، بڑا تنازع!اسرائیلی پرچم سے یہودی علامت غائب؟

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں نئے سال کے موقع پر ہونے والی روایتی آتش بازی اس وقت شدید تنازع کا شکار ہو گئی جب لندن آئی پر دکھائے گئے اسرائیلی پرچم سے یہودی شناخت کی علامت ستارۂ داؤد واضح طور پر نظر نہ آیا۔ دریائے ٹیمز کے کنارے موجود تقریباً ایک لاکھ افراد نے نئے سال کے جشن میں شرکت کی، جہاں مختلف ممالک کے پرچم لندن آئی پر پروجیکٹ کیے گئے، تاہم بی بی سی کی براہِ راست نشریات میں اسرائیلی پرچم صرف سفید پس منظر اور دو نیلی پٹیوں کے ساتھ دکھائی دیا، جبکہ ستارۂ داؤد غائب محسوس ہوا۔

واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ محض تکنیکی خرابی تھی یا کسی دانستہ فیصلے کا نتیجہ۔ متعدد حلقوں نے اسے یہودی شناخت مٹانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ بعض نے لندن کی قیادت پر جانبداری کے الزامات عائد کیے۔ تنازع شدت اختیار کرنے پر لندن کے میئر سر صادق خان کے دفتر نے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ لندن آئی پر دکھائے گئے پرچم متحرک اینیمیشن کا حصہ تھے جو چھوٹے اور حرکت میں تھے، اس لیے ہر علامت ہر لمحے واضح نہیں ہو سکی۔

سٹی ہال کے مطابق، اینیمیشن کے اختتام پر اسرائیلی پرچم پر ستارۂ داؤد مدھم انداز میں ظاہر ہوا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت عوامی شکوک دور کرنے میں ناکام رہی۔ میئر کے دفتر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسی اینیمیشن کے دوران گوئٹے مالا، ارجنٹائن اور ہونڈوراس جیسے دیگر نیلے اور سفید پرچم بھی جزوی طور پر غیر واضح نظر آئے، مگر ناقدین کے مطابق سب سے زیادہ توجہ اسرائیلی پرچم کی مبینہ عدم موجودگی پر ہی مرکوز رہی۔

اسرائیلی حکومت کے سابق ترجمان ایلون لیوی نے اس معاملے پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابتدا میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو افواہ سمجھا تھا، مگر ویڈیو دیکھنے کے بعد ان کے خدشات بڑھ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آتش بازی کے دوران اسرائیلی پرچم سے ستارۂ داؤد ہٹا دیا گیا اور اس حوالے سے میئر صادق خان کو وضاحت دینا ہو گی۔

نئے سال کا یہ جشن، جسے لندن کی ثقافتی ہم آہنگی اور تنوع کی علامت سمجھا جاتا ہے، اب مذہبی حساسیت، شناخت اور سیاسی علامتوں سے جڑے ایک سنجیدہ سوال میں تبدیل ہو چکا ہے، اور مبصرین کے مطابق یہ معاملہ برطانیہ میں سیاسی بحث اور بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button