2026 کا ہیلتھ ایجنڈا طے ہو گیا، فنڈنگ بحران، اے آئی اور موسمیاتی خطرات سب سے بڑا چیلنج

سال 2026 میں عالمی صحت کے شعبے کو بڑے اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا رہے گا، جہاں قیادت میں تبدیلی، فنڈنگ میں کمی، مصنوعی ذہانت کا بڑھتا کردار اور موسمیاتی تبدیلی صحت پالیسیوں کا رخ متعین کریں گے۔ ماہرین صحت کے مطابق یہ سال فیصلہ کن ہوگا کہ دنیا کمزور آبادیوں کو قابلِ علاج بیماریوں سے بچا پاتی ہے یا نہیں۔

گزشتہ برس Donald Trump کی انتظامیہ کی جانب سے عالمی انسانی امداد اور ترقیاتی فنڈز میں غیر معمولی کٹوتیوں کے بعد عالمی صحت کو شدید دھچکا لگا، جس کے اثرات 2026 تک جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ Gates Foundation کی یورپی ڈائریکٹر انجا لانگن بوخر کے مطابق فنڈنگ میں غیر یقینی صورتحال نے صحت کے عالمی پروگراموں کی رفتار سست کر دی ہے، یہاں تک کہ بچوں کی اموات کی شرح اس صدی میں پہلی بار دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشکلات کے باوجود محتاط امید کی گنجائش موجود ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز، نئی نسل کی ویکسینز اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں زرعی نظام صحت کے شعبے میں انقلابی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لانگن بوخر کے مطابق اگر مستحکم پلیٹ فارمز اور پائیدار فنڈنگ میسر آ جائے تو 2026 وہ سال ہو سکتا ہے جب صحت کے میدان میں دور کی سوچ عملی حل میں بدل جائے۔

ادھر The Global Fund نے ملیریا کو آئندہ مہینوں کا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جہاں ادویات کے خلاف مزاحمت اور کمزور صحت نظام بیماری کے پھیلاؤ کو بڑھا رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق کم فنڈنگ اور ناقص بنیادی صحت سہولیات اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں مصنوعی ذہانت کو صحت کے شعبے کا گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی کمپنی Philips کے مطابق اے آئی نہ صرف تشخیص اور ادویات کی تیاری میں مدد دے گی بلکہ ڈاکٹروں اور نرسوں پر بڑھتے انتظامی بوجھ کو بھی کم کرے گی، جس سے مریضوں کی دیکھ بھال بہتر ہو سکے گی۔ یورپ میں بائیوٹیکنالوجی کو بھی اس سال مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی توقع ہے، جو صحت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور بائیو ڈیفنس میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

دوسری جانب صحت کے نظام کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ OECD کی تجزیہ کار کیتھرین ڈی بیناسی کے مطابق نرسوں، فیملی ڈاکٹروں اور ماہرین کی کمی 2026 میں بھی پالیسی مباحث کا مرکز رہے گی، جس سے صحت کی سہولیات تک رسائی اور مساوات متاثر ہو رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی بھی صحت کے نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے، جن میں مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحت کو موسمیاتی پالیسیوں کا مرکز نہ بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں اخراجات اور بیماریوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق 2026 نہ صرف مشکل فیصلوں کا سال ہوگا بلکہ یہ موقع بھی فراہم کرے گا کہ عالمی صحت کو مؤثر نتائج، بہتر ہم آہنگی اور مقامی قیادت کی بنیاد پر دوبارہ منظم کیا جائے، تاکہ قابلِ علاج بیماریوں سے سب سے زیادہ کمزور افراد کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button