2026: دنیا کے سمندروں کے لیے فیصلہ کن سال

نہال ممتاز

دنیا کے سمندر اس وقت خاموش مگر شدید بحران کا شکار ہیں۔ گلوبل وارمنگ، غیر قانونی ماہی گیری، آلودگی، اور اب گہرے سمندر کی کان کنی جیسے عوامل نے سمندری ماحولیاتی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ 2025 میں عالمی سطح پر سمندروں کے تحفظ کے حوالے سے کئی بڑے اعلانات اور معاہدے سامنے آئے، مگر اصل امتحان 2026 میں شروع ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین 2026 کو دنیا کے سمندروں کے لیے ایک فیصلہ کن سال قرار دے رہے ہیں۔

سب سے اہم پیش رفت ہائی سیز ٹریٹی (BBNJ معاہدہ) کا نفاذ ہے، جو 17 جنوری 2026 سے عملی طور پر لاگو ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ پہلی بار ان بین الاقوامی پانیوں کو واضح قانونی دائرے میں لاتا ہے جو اب تک کسی ریاست کی عمل داری میں نہیں تھے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں دہائیوں سے غیر قانونی ماہی گیری، ماحولیاتی تباہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں، اور عالمی برادری بے بس نظر آتی تھی۔

یہ معاہدہ کاغذی اعتبار سے انتہائی مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے تحت بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ سمندری علاقے قائم کیے جا سکیں گے، سمندری جینیاتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی، ماحولیاتی اثرات کے جائزے لازمی ہوں گے، اور ترقی پذیر ممالک کی سائنسی و انتظامی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔ بظاہر یہ سب ایک بڑی کامیابی دکھائی دیتی ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ نفاذ کیسے ہوگا؟
بین الاقوامی قانون کے پاس کوئی عالمی پولیس فورس موجود نہیں۔ معاہدوں کی کامیابی کا انحصار ریاستوں کے سیاسی عزم، شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر سیٹلائٹ نگرانی پر ہوگا۔ اگر طاقتور ممالک خود ہی خلاف ورزی کریں یا آنکھیں بند رکھیں تو یہ معاہدہ بھی محض ایک ’’کاغذی وعدہ‘‘ بن کر رہ جائے گا، جیسے ماضی کے کئی معاہدے بنے۔

2026 کا دوسرا بڑا اور متنازع محاذ گہرے سمندر کی کان کنی ہے۔ ایک طرف دنیا کو نایاب معدنیات اور ریئر ارتھ عناصر کی ضرورت ہے، جو نئی ٹیکنالوجی، بیٹریوں اور دفاعی صنعت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ گہرے سمندر میں کان کنی ایسے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتی ہے جنہیں ہم ابھی پوری طرح سمجھ بھی نہیں پائے۔

اب تک 40 سے زائد ممالک گہرے سمندر کی کان کنی کی مخالفت کر چکے ہیں۔ فرانس نے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ جرمنی اور اسپین نے احتیاطی بنیادوں پر اسے روک رکھا ہے۔ یورپی یونین کا مؤقف بھی یہی ہے کہ جب تک سائنسی شواہد مکمل طور پر یہ ثابت نہ کر دیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا، تب تک اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

اس کے برعکس، امریکہ نے 2025 میں سمندری معدنی وسائل کے تیز تر استعمال کے حق میں واضح اشارے دیے۔ اگر امریکہ بین الاقوامی قوانین سے ہٹ کر عالمی پانیوں میں کان کنی کی طرف بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ ایک بڑا قانونی اور سفارتی بحران بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ 2026 میں عالمی عدالتوں اور اقوام متحدہ کے فورمز تک پہنچ سکتا ہے۔

یورپی یونین کے لیے 2026 ایک اندرونی امتحان بھی ہے۔ اگر یورپ اپنے ہی ساحلی علاقوں میں صنعتی ماہی گیری، خصوصاً باٹم ٹرالنگ، کو روکنے میں ناکام رہا تو وہ دنیا کو اخلاقی درس دینے کا حق کھو دے گا۔ اسی تناظر میں EU Ocean Pact اور مستقبل کا Ocean Act نہایت اہم ہیں۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ یورپی پانیوں کے کم از کم 30 فیصد حصے کو محفوظ بنایا جائے اور 10 فیصد علاقے کو سخت تحفظ حاصل ہو۔

عالمی سطح پر 2026 میں ہونے والی سمندری کانفرنسز، خصوصاً کینیا اور یورپ میں، یہ طے کریں گی کہ آیا سمندر واقعی عالمی ایجنڈے کا مستقل حصہ بنتے ہیں یا نہیں۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ سمندری تحفظ کے نتائج نسبتاً کم وقت میں سامنے آ سکتے ہیں، جو سیاست دانوں کے لیے بھی پرکشش ہے۔

آخرکار حقیقت یہی ہے کہ 2026 وعدوں کا نہیں، فیصلوں کا سال ہے۔
یا تو دنیا اپنے سمندروں کو عملی طور پر بچانے کی راہ اختیار کرے گی، یا پھر یہ سال بھی پچھلے عشروں کی طرح بیانات، کانفرنسز اور فائلوں میں دفن ہو جائے گا۔ سمندر خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی اب انسانیت کے لیے ایک آخری انتباہ بنتی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button