گروک پر عالمی دباؤ، ایلون مسک نے جنسی تصاویر کا فیچر بند کر دیا

سان فرانسسکو:
ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے اعلان کیا ہے کہ اس کا اے آئی چیٹ بوٹ گروک (Grok) اب ان ممالک میں جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے یا ایڈٹ کرنے کے قابل نہیں ہوگا جہاں یہ عمل قانوناً ممنوع ہے۔
یہ فیصلہ خواتین اور بچوں کی غیر رضامندانہ اور جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر سامنے آنے پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل کے بعد کیا گیا۔ مسک کی کمپنی xAI کے مطابق ایسے مواد کو جغرافیائی بنیادوں پر بلاک کیا جائے گا اور حقیقی افراد کی تصاویر کو عریاں یا نیم عریاں شکل میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پابندی تمام صارفین پر لاگو ہوگی، جبکہ تصویر بنانے اور ایڈیٹنگ کی سہولت صرف ادا شدہ صارفین تک محدود کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی بدسلوکی پر کارروائی ممکن ہو۔
واضح رہے کہ گروک کے متنازعہ “اسپائسی موڈ” کے باعث کئی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا نے گروک پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ برطانیہ، یورپی یونین، فرانس، بھارت اور برازیل نے تحقیقات اور سخت انتباہات جاری کیے ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا نے بھی گروک کے غلط استعمال پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
xAI نے واضح کیا ہے کہ بچوں سے متعلق جنسی مواد اور غیر رضامندانہ تصاویر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔



