ڈرونز کے دن گنے گئے؟ چین کا نیا مہلک ہتھیار سامنے آ گیا

بیجنگ: چین نے دشمن ڈرونز اور ڈرون جھُنڈوں کے خلاف ایک نیا ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار تیار کر لیا ہے، جسے ہریکین 3000 کا نام دیا گیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ نظام ڈرونز کو چند لمحوں میں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج امریکی ہم پلہ نظام سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

چینی سرکاری دفاعی کنٹریکٹر NORINCO نے پہلی بار اس ہفتے ہریکین 3000 کی تفصیلات جاری کیں۔ کمپنی کے ماہر یو جیان جون کے مطابق ہلکے ڈرونز اور ڈرون جھُنڈوں کے خلاف اس نظام کی مؤثر انٹرسیپشن رینج 3 کلومیٹر سے زائد ہے، جو اسے اس نوعیت کے جدید ترین نظاموں میں نمایاں بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار روایتی لیزر سسٹمز سے مختلف ہوتے ہیں، جو ایک وقت میں صرف ایک ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہریکین 3000 ایک بڑے علاقے کو کور کرتے ہوئے “سوئپ اینڈ کِل” صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ بیک وقت متعدد ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنا سکتا ہے—خاص طور پر ڈرون سوارم حملوں کے خلاف۔

یہ ہتھیار پہلی بار 3 ستمبر کو بیجنگ میں منعقدہ وکٹری ڈے فوجی پریڈ کے دوران عوام کے سامنے آیا تھا، جہاں اسے ٹرک پر نصب حالت میں دکھایا گیا۔

امریکی فوج کے ہم پلہ مائیکروویو ہتھیار Leonidas کی رینج تقریباً 2 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جس کے مقابلے میں ہریکین 3000 کو برتری حاصل قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی ماہرین کے مطابق یہ نظام ڈرونز کے خلاف ایک “آئرن ٹرائی اینگل” دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتا ہے، جہاں یہ خود مختار طور پر یا لیزر ہتھیاروں اور روایتی توپ خانے کے ساتھ نیٹ ورک ہو کر بڑے علاقے کا دفاع کر سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہریکین 3000 چین کی اینٹی ڈرون صلاحیتوں میں ایک بڑا اضافہ ہے اور مستقبل کی فضائی جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے خلاف توازن بدل سکتا ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button