پرتشدد مظاہروں کے سائے میں ایران کا سیاسی مستقبل؟

محجوب زویری
(ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے ماہر، سینئر سیاسی تجزیہ کار)
ایران میں نئے سال کے آغاز پر ہونے والے مظاہرے ایک ایسے سال کے اختتام پر سامنے آئے جو جنگ، معاشی دباؤ اور سیاسی غیر یقینی سے بھرپور تھا۔
2025 میں اسرائیل نے ایران پر 12 روزہ حملہ کیا، جس میں اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور عسکری و معاشی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ اس کے بعد امریکا نے فردو، اصفہان اور نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔
سال کے اختتام پر دارالحکومت تہران سمیت وسطی اور جنوب مغربی ایران کے متعدد شہروں میں مظاہرے شروع ہوئے، جو دسمبر 2025 کے آخری ہفتے سے جنوری 2026 کے ابتدائی دنوں تک جاری رہے۔
یہ مظاہرے کوئی نئی بات نہیں تھے۔ ایرانی معاشرہ 1990 کی دہائی کے وسط سے اب تک ہزاروں احتجاجی مظاہرے دیکھ چکا ہے، جن کی نوعیت، شدت اور عوامی شرکت مختلف رہی ہے۔ ان مظاہروں کی وجوہات بھی وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، جن میں سماجی و سیاسی آزادیوں پر قدغن، اور معاشی حالات کی بگڑتی صورتحال نمایاں رہی ہے۔
ایران میں احتجاجی تحریکیں ہمیشہ داخلی سیاست، طرزِ حکمرانی، خارجہ پالیسی اور پابندیوں کے اثرات کے باہمی تعلق سے جنم لیتی رہی ہیں۔ یہی عوامل نہ صرف احتجاج کو جنم دیتے ہیں بلکہ ریاستی ردِعمل کی نوعیت کا بھی تعین کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل اور امریکا کے ساتھ کشیدگی اور سخت پابندیاں مسلسل برقرار ہوں۔
سال کے اختتام پر ہونے والے مظاہرے تاجروں اور بازاروں کی ہڑتال کے بعد شروع ہوئے، جن کی بنیادی وجہ قوتِ خرید میں شدید کمی تھی۔ اس تیز گراوٹ کی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایرانی ریال کی قدر میں تقریباً 50 فیصد کمی، اور بے روزگاری کی شرح کا 7.5 فیصد تک پہنچنا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ معاشی شکایات نے احتجاج کو جنم دیا ہو۔ 2008 میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس بڑھانے کے بعد بازاروں میں احتجاج ہوا، جس پر صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
اسی طرح 2010 میں آمدن ٹیکس 70 فیصد تک بڑھانے کی کوشش پر بھی محدود مظاہرے ہوئے، جس کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔
ایران کی احتجاجی تاریخ میں معاشی مطالبات ہمیشہ سماجی آزادیوں کے مطالبات کے ساتھ جڑے رہے ہیں، جن میں لازمی حجاب قوانین کی مخالفت بھی شامل ہے۔ یہ عوامل 2022 میں اس وقت شدت اختیار کر گئے جب 22 سالہ مہسا امینی حجاب قانون کے تحت حراست میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، اور حکام نے ذمہ داری ان پر ڈالنے کی کوشش کی، جس سے عوامی غصہ بھڑک اٹھا۔
اس کے باوجود، مسلسل آنے والی حکومتیں کوئی بنیادی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہیں۔ صدر محمد خاتمی (1997–2005) نے تیل پر انحصار کم کرنے اور غیر تیل شعبوں کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی پیش کی تاکہ پابندیوں کے اثرات کم کیے جا سکیں، مگر 2002 میں نطنز جوہری تنصیب کی تصاویر سامنے آنے کے بعد جوہری بحران شدت اختیار کر گیا اور بیرونی معاشی دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
2005 سے 2013 تک احمدی نژاد نے عوامی مقبولیت پر مبنی پالیسی اپنائی، جس میں تیل کی آمدن کو براہِ راست عوام میں تقسیم کرنے کا پروگرام شامل تھا، مگر یہ حکمتِ عملی بھی ناکام رہی۔ اس دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت سخت پابندیاں لگائی گئیں، جنہوں نے تجارت، مالی اثاثوں اور عالمی مالی نظام تک رسائی کو شدید محدود کر دیا۔
بدانتظامی یا پابندیاں؟
وقت کے ساتھ جیسے جیسے مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا، ایک بنیادی سوال بار بار سامنے آتا رہا:
ایران کے معاشی بحران میں پابندیوں کا کتنا کردار ہے، اور حکمرانی کی ناکامی کہاں ذمہ دار ہے؟
ایران کی معیشت 1980 سے ساختی مسائل کا شکار رہی ہے، جنہیں حل نہیں کیا گیا۔ انقلابی نظریات اور ان سے جڑی ترجیحات کو مضبوط معیشت کی تشکیل پر فوقیت دی گئی۔ معاشی اور مالی قوانین عالمی تبدیلیوں کے مطابق نہیں ڈھل سکے، جس کے نتیجے میں ایران عالمی منڈیوں سے کٹتا چلا گیا اور پابندیوں کے اثرات مزید شدید ہوتے گئے۔
یہی وہ سوال ہے جو ایران کی سیاسی اور معاشی اشرافیہ کے سامنے آج بھی موجود ہے:
مسلسل حکومتیں ایسی معاشی پالیسیاں کیوں نہ بنا سکیں جو پابندیوں کے اثرات کا مقابلہ کر سکیں؟
چین کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدہ — جس کی مالیت 400 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے — اور روس کے ساتھ 2025 میں ہونے والی طویل المدتی شراکت داری بھی معاشی استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ ان شراکت داریوں سے امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کے سخت اثرات کم نہ ہو سکے۔
عوامی نعرے طویل عرصے سے ایران کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مداخلت، کو قومی وسائل کے زیاں سے جوڑتے رہے ہیں۔ لبنان، عراق، یمن اور فلسطین میں مسلح گروہوں کی حمایت ایران کی علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ رہی ہے۔
“نہ غزہ، نہ لبنان، ایران کے لیے میری جان قربان” جیسے نعرے 2024 کے آخر میں مظاہروں کی پہچان بن گئے تھے۔
تاہم 2025 کے بعد یہ بیانیہ کمزور پڑنے لگا، کیونکہ لبنان، شام، غزہ اور یمن میں ایرانی اثرورسوخ نمایاں طور پر گھٹ چکا ہے۔ یہاں تک کہ بعض ایرانی فوجی حکام نے شام سے 50 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا، جسے شامی عبوری حکومت نے مسترد کر دیا۔
پہلی بار، سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان نے کھلے عام تسلیم کیا کہ ایران کی معاشی صورتحال کا ذمہ صرف پابندیاں نہیں۔ اس اعتراف سے یہ واضح ہوا کہ حکومت احتجاج کو محض بیرونی سازش کے طور پر نہیں دیکھ رہی۔
مختلف بیانیے اور آنے والے خطرات
ایرانی قیادت اب دو مختلف بیانیے پیش کر رہی ہے۔ ایک بیانیہ معاشی بدانتظامی کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ دوسرا، جسے سکیورٹی ادارے فروغ دے رہے ہیں، مظاہروں کو بیرونی قوتوں کی سازش قرار دیتا ہے۔
یہ تضاد ریاستی اداروں میں ابہام پیدا کر رہا ہے اور معاشرے اور نظام کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہا ہے۔ ماضی میں ایسے حالات میں سکیورٹی ادارے مضبوط ہوئے، مگر موجودہ داخلی و علاقائی حالات ایک مختلف ردِعمل کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی عسکری برتری اور امریکا کی غیر مشروط حمایت نے اسرائیلی قیادت کو ایران کے خلاف نئی جنگ کے امکان پر سنجیدگی سے غور کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ اسرائیل اب یہ بیانیہ پیش کر رہا ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور اس کا جوہری پروگرام لیبیا کی طرح ختم کیا جانا چاہیے۔
اس صورتحال نے ایران اور اس کے معاشرے کے درمیان تصادم کو مزید شدید کر دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طویل کشیدگی بالآخر نظام میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے، چاہے یہ عمل وقت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔



