پاک ، بھارت قیدیوں، ایٹمی سائٹس فہرستوں کا تبادلہ،سندھ طاس پر نئی کشیدگی

پاکستان اور بھارت نے باہمی معاہدوں کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں اور اپنی اپنی ایٹمی ، تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان Tahir Andrabi نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے بھارت کے ہائی کمیشن اسلام آباد کو 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جو 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت سال میں دو مرتبہ کیے جانے والے تبادلے کا حصہ ہے۔

ترجمان کے مطابق دونوں ممالک نے 1988 کے معاہدہ برائے ایٹمی تنصیبات و سہولیات پر حملوں کی ممانعت کے تحت اپنی اپنی ایٹمی تنصیبات کی فہرستیں بھی ایک دوسرے کے حوالے کیں، جس کے مطابق یہ تبادلہ ہر سال یکم جنوری کو کیا جاتا ہے۔

میڈیا بریفنگ میں دریائے چناب پر بھارت کے مجوزہ دلہستی اسٹیج۔II پن بجلی منصوبے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو اس منصوبے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، جو سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے بھارتی حکام سے منصوبے کی نوعیت، دائرہ کار اور تکنیکی تفصیلات پر وضاحت طلب کر لی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور قابلِ نفاذ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی قانونی حیثیت کو عدالتِ ثالثی کے فیصلوں نے بھی تسلیم کیا ہے، اور پاکستان اپنے عوام کے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر قائم ہے اور تائیوان کو چین کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button