ستاروں کے بغیر کہکشاں، ہبل کی حیران کن دریافت

واشنگٹن: ماہرینِ فلکیات نے کائنات میں ایک ایسی نایاب اور حیران کن شے دریافت کی ہے جو کہکشاؤں کی پیدائش سے متعلق سائنسی تصورات کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ Hubble Space Telescope کے مشاہدات میں ایک ایسا گیس بادل سامنے آیا ہے جس میں ایک بھی ستارہ موجود نہیں، جسے سائنس دانوں نے “کلاؤڈ 9” کا نام دیا ہے۔

یہ پراسرار فلکیاتی شے زمین سے تقریباً 14 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع کہکشاں Messier 94 کے قریب دیکھی گئی۔ ستاروں کی مکمل عدم موجودگی کے باعث یہ بادل عام روشنی میں تقریباً نظر نہیں آتا، جس کی وجہ سے یہ طویل عرصے تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل رہا۔

تحقیق کے مطابق کلاؤڈ 9 دراصل گیس اور ڈارک میٹر پر مشتمل ایک بھوت نما ڈھانچہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی “ناکام کہکشاں” ہے جو گیس اکٹھی کرنے میں تو کامیاب رہی، مگر ستاروں کی تشکیل کا عمل کبھی شروع نہ کر سکی۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ماہرِ فلکیات الیخاندرو بینیٹیز-یامبائے کے مطابق، ستاروں کا نہ ہونا ہی اس دریافت کی سب سے بڑی علامت ہے، جو اس نظریے کی تصدیق کرتا ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں کچھ کہکشائیں وجود میں آنے سے پہلے ہی “رُک” گئیں۔

NASA کے مطابق کائنات کی ابتدا میں بعض ڈارک میٹر ڈھانچوں نے گیس تو جمع کر لی، مگر توانائی کی کمی کے باعث وہ ستارے روشن نہ کر سکے۔ ایسے نایاب باقیات کو سائنسی زبان میں ری آئنائزیشن لمیٹڈ ہائیڈروجن کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کلاؤڈ 9 کی دریافت نہ صرف کائناتی ماڈلز کی ایک اہم پیش گوئی کی تصدیق کرتی ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ کہکشائیں کیسے جنم لیتی ہیں—اور بعض صورتوں میں، کیسے وہ جنم لینے میں ناکام رہتی ہیں۔

یہ دریافت کائنات کے اُن رازوں میں ایک اور اضافہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ خلا میں ہر چیز چمکتی نہیں، مگر ہر چیز اپنی ایک کہانی ضرور رکھتی ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button