ترکمانستان میں غیر معمولی سمٹ:روس، ترکی اور ایران کے صدور ایک ساتھ جمع

عشق آباد: وسطی ایشیا میں ایک غیر معمولی سفارتی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں روس، ترکی اور ایران کے صدور نے ترکمانستان میں ہونے والی ایک اہم سربراہی تقریب میں شرکت کی۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکمانستان اپنی 30 سالہ غیر جانبداری کا جشن منا رہا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر علاقائی امن، باہمی تعاون، توانائی، تجارت اور خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ اگرچہ یہ کوئی باضابطہ سہ فریقی سمٹ نہیں تھی، تاہم تینوں طاقتور ممالک کے سربراہان کی ایک جگہ موجودگی کو سفارتی حلقوں میں انتہائی معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور مغربی پابندیوں نے عالمی سیاست کو نئی صف بندی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ترکمانستان کی غیر جانبدار حیثیت نے اس ملک کو ایک سفارتی پل کے طور پر اجاگر کر دیا ہے جہاں متحارب اور مختلف بلاکس کے ممالک بھی ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔
یہ اجلاس اس بات کا بھی اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں مستقبل میں توانائی راہداریوں، تجارتی راستوں اور سیکیورٹی تعاون پر قریبی رابطہ بڑھانے کی خواہاں ہیں۔



