بجلی سستی کرنے کا بڑا پلان، پاکستان کا 36 ارب ڈالر قرض ری فنانس کرنے کی تیاری

پاکستان نے توانائی کے شعبے پر دباؤ کم کرنے اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی لانے کے لیے 36 ارب ڈالر کے پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ کے امکان پر World Bank سے رابطہ کیا ہے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو ماضی میں مختلف پاور پراجیکٹس لگانے کے لیے حاصل کیے گئے تھے اور جن کی لاگت براہِ راست صارفین کے بجلی بلوں میں شامل ہو رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ابتدائی تجویز کا مقصد مہنگے غیر ملکی کمرشل قرضوں کو نسبتاً کم شرح سود والے کثیر جہتی قرضوں سے تبدیل کرنا ہے تاکہ بجلی کے نرخ نیچے لائے جا سکیں۔ قرض کی اصل رقم اور سود کی ادائیگی بجلی کی لاگت کا حصہ بنتی ہے، جس کا بوجھ صارفین برداشت کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت قرضوں کی واپسی کے لیے 15 سال کی مدت اور تقریباً 4 سال کے گریس پیریڈ کی خواہاں ہے، تاکہ بجلی کی قیمت 8 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ یعنی تقریباً 25 روپے فی یونٹ تک لائی جا سکے۔ اس وقت صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت کم کی جا چکی ہے، تاہم گھریلو صارفین اب بھی 50 روپے فی یونٹ سے زائد ادا کر رہے ہیں، جو عوام کے لیے ناقابلِ برداشت سمجھی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے وزیر توانائی Sardar Awais Leghari نے ورلڈ بینک کی کنٹری ہیڈ سے ملاقات میں توانائی کے شعبے پر قرضوں کے بھاری بوجھ کا معاملہ اٹھایا اور ممکنہ تعاون پر بات چیت کی۔ ورلڈ بینک کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ عالمی تجربات شیئر کر سکتا ہے، تاہم براہِ راست مالی معاونت پر فی الحال کوئی حتمی بات نہیں ہوئی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر مختلف کثیر جہتی قرض دہندگان اس منصوبے میں شامل ہو جاتے ہیں تو سالانہ ایک سے دو ارب ڈالر تک کی ری فنانسنگ ممکن ہو سکتی ہے، جس سے بجلی کے نرخوں میں پائیدار کمی لانے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے کی طویل مدتی پائیداری اور صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف اصلاحاتی تجاویز زیر غور ہیں۔



