ایران میں خونریز احتجاج، پاکستان کا شہریوں کو سفر سے گریز کا ہنگامی مشورہ

اسلام آباد: ایران میں جاری شدید اور پرتشدد احتجاج کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق موجودہ حالات میں ایران میں سلامتی کے سنگین خدشات لاحق ہیں، اس لیے پاکستانی شہری حالات بہتر ہونے تک سفر سے اجتناب کریں۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں مقیم پاکستانی شہری غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھیں، انتہائی احتیاط برتیں اور پاکستانی سفارتی مشنز سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کے سفارتخانے اور قونصل خانوں کے ہنگامی نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ تہران میں ایک خصوصی کرائسس مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
ایران میں گزشتہ 13 روز سے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف احتجاج جاری ہے جو اب حکومتی نظام کے خاتمے کے نعروں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 50 سے زائد مظاہرین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایرانی حکام نے ملک بھر میں مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ کر رکھی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei نے مظاہرین کو تخریب کار قرار دیتے ہوئے سخت بیانات دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت شدید دباؤ میں ہے اور اگر پرامن مظاہرین کو نقصان پہنچایا گیا تو سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور پاکستان نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے پیشِ نظر الرٹ جاری رکھا ہوا ہے۔



