آسٹریلیا میں قیامت خیز آگ، 3 لاکھ ہیکٹر جل کر راکھ، ایمرجنسی نافذ

میلبورن: آسٹریلیا کے جنوب مشرقی حصے میں شدید جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی ہے، جہاں ریاست Victoria میں حکومت نے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے "حالتِ آفت” نافذ کر دی ہے۔ حکام کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے دوران بھڑکنے والی آگ نے اب تک 3 لاکھ ہیکٹر سے زائد جنگلات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ 130 سے زیادہ عمارتیں جن میں رہائشی مکانات بھی شامل ہیں، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث 38 ہزار سے زائد گھروں اور کاروباری اداروں کی بجلی منقطع ہو گئی ہے، جبکہ کم از کم 10 بڑی آگ تاحال بے قابو ہیں۔ یہ آگ 2019–2020 کے بدنامِ زمانہ "بلیک سمر” کے بعد ریاست کی بدترین آفات میں شمار کی جا رہی ہے۔

ریاست وکٹوریہ کی وزیر اعلیٰ Jacinta Allan کے مطابق ہزاروں فائر فائٹرز جان ہتھیلی پر رکھ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انخلاء کا حکم دیا جائے تو فوری طور پر علاقہ چھوڑ دیں۔ ان کے مطابق تین لاپتا افراد، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، کو بحفاظت تلاش کر لیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم Anthony Albanese نے صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم شدید اور غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کر رہی ہے، خاص طور پر وکٹوریہ میں آگ کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے متاثرہ دیہی آبادیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق لونگ ووڈ کے قریب ایک بڑی آگ نے 1 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر رقبہ جلا دیا، درجنوں مکانات، زرعی زمینیں اور باغات تباہ ہو گئے۔ متعدد علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پارکس اور کیمپنگ سائٹس بند کر دی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث آسٹریلیا میں درجہ حرارت 1910 کے بعد 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی اور آگ جیسے قدرتی سانحات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button